د لِ کی وا دی میں وہ اُتر جائے
وقت جانے کہاں ٹھہر جائے
چھپ کے اس کی نگاہ سے کوئی
جانا چاہے بھی تو کدھر جائے
اشک بہنے کے بعد لگتا ہے
جیسے دریا کوئی اتر جائے
ایسے دستک وہ دل پہ دیتا ہے
جیسے لمحہ کوئی ٹھہر جائے
رخِ زیبا کو دیکھ لوں عنبر
موسمِ دل ذرانکھر جائے
عنبر شاہد
No comments:
Post a Comment