میر ے خد ا تو شبِ تا ر کو سحر کر د ے
میر ے و طن کو تُو لطف و کرم کا گھر کر د ے
و طن میں ا ہل ز مین کو سکو ں میسر ہو
ہو س کی ز د سے تو ہم سب کو بے خبر کر د ے
ہمیں تو بخش د ے عر فا ن خو د شنا سی کا
میر ے خد ا تو ہمیں صا حبِ نظر کر د ے
جد ھر بھی د یکھیے بھٹکے ہوئے سے آ ہو ہیں
عد ُو کی آ نکھ سے گُم میر ی رہ گز ر کر د ے
جہا ں میں سب سے ہو ا و نچا مر ے وطن کا نا م
ا سے تو ا س طر ح د نیا میں معتبر کر د ے
نہیں ہے ا س کے خز ا نے میں کچھ کمی عنبرّ
جد ھر بھلا ئی کا ر خ ہو ہمیں ا د ھر کر د ے
عنبرّ شا ہد
No comments:
Post a Comment