جو حسرتوں کے جا م تھے سب ٹوٹتے گئے
ا رما ن میرے د ل
کے سبھی روٹھتے گئے
را توں کو جا
گ کے کبھی ہم نے جو بنا ئے
خوا بوں
کے وہ محل تو سبھی
ٹو ٹتے گئے
عمر یں تما م ا ن کو منا نے میں
لگ گئیں
کیسے تھے لو گ جو کہ سد ا روٹھتے
گئے
د ا من خد ا
کا تھا م کے رکھا تما م عمر
د نیا کے تھے سہا رے جو
سب چھوٹتے گئے
غیروں سے کیا گلہ
کر یں کس با ت پر کریں
سمجھے تھے
جن کو ا پنا وہی لوٹتے گئے
ہو نے نہ پا ئی د
نیا کو ا ک پل کی بھی خبر
ا ند ر سے ہم تو د ل
کی طر ح ٹوٹتے گئے
+copy.jpg)
No comments:
Post a Comment