Thursday, 11 August 2016

محفل میں ہوتی ہوں لیکن دل یہ تنہا رہتا ہے




محفل میں ہوتی ہوں لیکن دل یہ تنہا رہتا ہے
بے چینی اور الجھن کا اک عجب تماشا رہتا ہے
اک گہری خاموشی میرے چاروں جانب رہتی ہے
لیکن اندر جانے کیا طوفان سا برپا رہتا ہے
جانے کون سے لمحے میں دل کون دکھا دے گا میرا
اسی لیے تو آنکھوں میں اشکوں کو دریا رہتا ہے
چاندنی راتیں بھی اب مجھ کو مدھم مدھم لگتی ہیں 
اور سحر کا رنگ بھی کچھ کچھ میلا میلا رہتا ہے
خواہش کا کوئی بھی گل کھلتا نہیں مرے آنگن میں 
اللہ جانے دل میرا کیوں محو تمنا رہتا ہے
عنبر شاہد