محفل میں ہوتی ہوں لیکن دل یہ تنہا رہتا ہے
بے چینی اور الجھن کا اک عجب تماشا رہتا ہے
اک گہری خاموشی میرے چاروں جانب رہتی ہے
لیکن اندر جانے کیا طوفان سا برپا رہتا ہے
جانے کون سے لمحے میں دل کون دکھا دے گا میرا
اسی لیے تو آنکھوں میں اشکوں کو دریا رہتا ہے
چاندنی راتیں بھی اب مجھ کو مدھم مدھم لگتی ہیں
اور سحر کا رنگ بھی کچھ کچھ میلا میلا رہتا ہے
خواہش کا کوئی بھی گل کھلتا نہیں مرے آنگن میں
اللہ جانے دل میرا کیوں محو تمنا رہتا ہے
عنبر شاہد
No comments:
Post a Comment