Wednesday, 31 December 2014

ہے دعا میری خد ا یا ، رحمتوں کا سا ل ہو




ہے  دعا  میری خد ا یا   ، رحمتوں  کا سا ل ہو
ختم  ہوں  سب  فاصلے  یہ  قربتوں  کا سال ہو
د رد کے مارے ہوووں کا   ا یک  تو ہی آسرا 
کرب میں ڈوبے ہووٗں  کو راحتوں کا سا ل ہو  
 علم  کی شمع جلے ہر سو مٹیں   تا ریکیا ں 
تنگ  نظری  ہو ختم ، یہ وسعتوں کا سال ہو
دے ہدایت تو ہمیں پہچان لیں ہم حق کی راہ 
سب مسلمانوں کا یا رب عظمتوں کا سا ل ہو 
اس فلک پر سب  ستارے یوں چمکتے ہی رہیں
ا ن کے دشمن کے لیے یہ ذلتوں کا سال ہو 
مفلسی کردے ختم تو ، بے بسی کو دور کر
میری  ا رض پا ک  پر یہ برکتوں کا سال ہو 


کسی سے کیا کہیں بھلا کہ کیا یہ سال دے گیا





کسی سے کیا کہیں بھلا کہ کیا یہ سال دے گیا
عروج کے تھے منتظر،مگر زوال دے گیا
وہ آفتیں ،قیامتیں تباہیاں ،مصیبتیں
خوشی ہماری چھین کر ہمیں ملال دے گیا
زمین بوس کر گیا بہار رنگ آ شیاں
خزاں کی زد میں تھے جو ایسے خدو خال دے گیا
وہ جن کے آسرے پہ ہم گزار لیں گے زندگی
وہ یاد گار لمحے ہمیں خال خال دے گیا۔
رہی ہیں جوں کی توں یہاں پہ مشکلیں عوم کی
نہ جس کا کوئی ماضی تھا ہمیں وہ حال دے گیا
ہر ایک بات برملا کہی ہے عنبر آ پ نے
تمہیں یہ سال شاعری میں اک کمال دے گیا
عنبر شاہد


Tuesday, 23 December 2014

تیری جانب سے مگر کوئی اشارہ بهی...... تو ہو


کب بجهے گی تشنگی.... یہ آشکارا بهی... تو ہو
ایک پل میں طے کریں گے..عشق کی سب منزلیں
تیری جانب سے مگر کوئی اشارہ بهی...... تو ہو
رات تنہائی میں عنبر آسماں.............. تکتی رہی
میری قسمت کا کہیں اس میں... ستارہ بهی تو ہو
Like                                                                                                              عننبر شاہد

Sunday, 21 December 2014

ختم کر د و یہ آ گ نفرت کی

ختم کر د و یہ آ گ نفرت کی 


ختم  کر د و یہ  آ گ  نفرت  کی

دیکھو کملا رہے ہیں پھول سبھی

توڑ   ڈالو  ا نا  کے  بت  یارو

دیکھو مرجھا گئے ہیں پھول سبھی

خا ہشوں کی غلا می چھوڑ د و ا ب

دیکھو کملا رہے ہیں پھول سبھی

چھوڑو فرقوں کو،ایک ہو جائو

دیکھو مرجھا گئے ہیں پھول سبھی

یوں انگاروں کا کھیل مت کھیلو

دیکھو کملا رہے ہیں پھول سبھی

ایک ہوجائو سب جو ہو مسلم

دیکھو مرجھا گئے ہیں پھول کئی 

عنبر شاہد

Wednesday, 17 December 2014

سب لوگ زندہ درگور..... ......کتنی مائوں کو رول دیا



ہائے وہ کیسے ظالم تهے...... اک ظلم کا دریا کهول دیا
سب لوگ زندہ درگور..... ......کتنی مائوں کو رول دیا
اس لہو کی قیمت ہے کتنی ہوتے جو بشر تو جانتے تم
کیا کہنا ہے کیا سننا ہے ..........معصوم لہو نے بول دیا
قائد کی لگن اقبال کا خواب اک خواب رہا بس خواب رہا
لاکهوں تن کی قربانی کا اس دهرتی نے کیا مول دیا
روٹی پانی اور کپڑوں کو یہ قوم ترستی ہے یوں تو
پر جس روگی نے اب کے دیا یہ روگ بڑا انمو ل دیا

عنبر شاہد

Monday, 15 December 2014


میر ے    خد ا   تو شبِ  تا ر   کو  سحر کر د ے
میر ے   و طن کو تُو لطف  و کرم کا گھر کر د ے
و طن   میں   ا ہل   ز مین   کو سکو ں  میسر ہو
ہو س  کی ز د سے تو ہم سب کو بے خبر کر د ے
ہمیں  تو   بخش   د ے  عر فا ن  خو د شنا سی کا
میر ے   خد ا    تو  ہمیں  صا حبِ  نظر  کر  د ے
جد ھر  بھی د یکھیے بھٹکے ہوئے سے آ ہو ہیں
عد ُو  کی آ نکھ  سے  گُم میر ی رہ گز ر کر د ے
جہا ں میں سب سے ہو ا و نچا مر ے وطن کا نا م
ا سے   تو  ا س   طر ح  د نیا  میں معتبر کر د ے
نہیں   ہے  ا س کے خز ا نے میں کچھ  کمی عنبرّ
جد ھر  بھلا ئی  کا ر خ ہو  ہمیں  ا د ھر  کر د ے

عنبرّ شا ہد

Tuesday, 9 December 2014

Monday, 8 December 2014

د ل کی وا دی میں و ہ ٹھہر جائے





Add caption
د لِ کی وا دی میں وہ اُتر جائے
وقت جانے کہاں ٹھہر جائے
چھپ کے اس کی نگاہ سے کوئی
جانا چاہے بھی تو کدھر جائے
اشک بہنے کے بعد لگتا ہے
جیسے دریا کوئی اتر جائے
ایسے دستک وہ دل پہ دیتا ہے
جیسے  لمحہ کوئی ٹھہر جائے
رخِ زیبا کو دیکھ لوں عنبر
موسمِ دل ذرانکھر جائے
عنبر شاہد

Friday, 5 December 2014

ا و ہدی بے قدری نے رول دتا



اساں سب کج جس تے ڈول د تا

اوہدی بے قدری نے رول د تا

سانوں ول فریب نی آ ندے سن

جو د ل وچ سی او بو ل د تا

عنبر شاہد

Monday, 1 December 2014

دعا



ہمیں نیک انساں بنا د ے خدا یا
رحمت میں اپنی چھپا دے خدایا
زیارت حرم کی مقدر میں لکھ دے
نبی جی کا روضہ دکھا دے خدایا
ہیں نادان بندے تیرے ہم ہیں عاصی
ہمیں راہ حق پر چلا دے خدایا
اندھیروں میں بھٹکے ہوئے ہیں مسافر
انہیں روشنی تو دکھا دے خدا یا
تیرے اس جہاں میں نہیں کوئی منصف
کوئی فیصلہ تو سنا دے خدایا
غموں کی تپش سے گُھلے جا رہے ہیں
کرم کی ہوائیں چلا دے خدایا