ختم ہوں سب فاصلے یہ قربتوں کا سال ہو
د رد کے مارے ہوووں کا ا یک تو ہی آسرا
کرب میں ڈوبے ہووٗں کو راحتوں کا سا ل ہو
علم کی شمع جلے ہر سو مٹیں تا ریکیا ں
تنگ نظری ہو ختم ، یہ وسعتوں کا سال ہو
دے ہدایت تو ہمیں پہچان لیں ہم حق کی راہ
سب مسلمانوں کا یا رب عظمتوں کا سا ل ہو
اس فلک پر سب ستارے یوں چمکتے ہی رہیں
ا ن کے دشمن کے لیے یہ ذلتوں کا سال ہو
مفلسی کردے ختم تو ، بے بسی کو دور کر
میری ا رض پا ک پر یہ برکتوں کا سال ہو

very nice poetry :)
ReplyDelete