کسی سے کیا کہیں بھلا کہ کیا یہ سال دے گیا
عروج کے تھے منتظر،مگر زوال دے گیا
وہ آفتیں ،قیامتیں تباہیاں ،مصیبتیں
خوشی ہماری چھین کر ہمیں ملال دے گیا
زمین بوس کر گیا بہار رنگ آ شیاں
خزاں کی زد میں تھے جو ایسے خدو خال دے گیا
وہ جن کے آسرے پہ ہم گزار لیں گے زندگی
وہ یاد گار لمحے ہمیں خال خال دے گیا۔
رہی ہیں جوں کی توں یہاں پہ مشکلیں عوم کی
نہ جس کا کوئی ماضی تھا ہمیں وہ حال دے گیا
ہر ایک بات برملا کہی ہے عنبر آ پ نے
تمہیں یہ سال شاعری میں اک کمال دے گیا
عنبر شاہد
No comments:
Post a Comment