Thursday, 11 August 2016

محفل میں ہوتی ہوں لیکن دل یہ تنہا رہتا ہے




محفل میں ہوتی ہوں لیکن دل یہ تنہا رہتا ہے
بے چینی اور الجھن کا اک عجب تماشا رہتا ہے
اک گہری خاموشی میرے چاروں جانب رہتی ہے
لیکن اندر جانے کیا طوفان سا برپا رہتا ہے
جانے کون سے لمحے میں دل کون دکھا دے گا میرا
اسی لیے تو آنکھوں میں اشکوں کو دریا رہتا ہے
چاندنی راتیں بھی اب مجھ کو مدھم مدھم لگتی ہیں 
اور سحر کا رنگ بھی کچھ کچھ میلا میلا رہتا ہے
خواہش کا کوئی بھی گل کھلتا نہیں مرے آنگن میں 
اللہ جانے دل میرا کیوں محو تمنا رہتا ہے
عنبر شاہد

Tuesday, 1 December 2015

دسمبر کا مہینہ ........آ گیا ہے



ہمیں بھی یہ قرینہ آ گیا ہے
غمو ں کے ساتھ جینا آ گیا ہے
کہانی غم کی اوروں کو سنائی
تجھے پر کیوں پسینہ آ گیا ہے
ہیں راتیں سرد اور تنہائیاں ہیں
دسمبر کا مہینہ آ گیا ہے 
 عنبر شاہد

Wednesday, 31 December 2014

ہے دعا میری خد ا یا ، رحمتوں کا سا ل ہو




ہے  دعا  میری خد ا یا   ، رحمتوں  کا سا ل ہو
ختم  ہوں  سب  فاصلے  یہ  قربتوں  کا سال ہو
د رد کے مارے ہوووں کا   ا یک  تو ہی آسرا 
کرب میں ڈوبے ہووٗں  کو راحتوں کا سا ل ہو  
 علم  کی شمع جلے ہر سو مٹیں   تا ریکیا ں 
تنگ  نظری  ہو ختم ، یہ وسعتوں کا سال ہو
دے ہدایت تو ہمیں پہچان لیں ہم حق کی راہ 
سب مسلمانوں کا یا رب عظمتوں کا سا ل ہو 
اس فلک پر سب  ستارے یوں چمکتے ہی رہیں
ا ن کے دشمن کے لیے یہ ذلتوں کا سال ہو 
مفلسی کردے ختم تو ، بے بسی کو دور کر
میری  ا رض پا ک  پر یہ برکتوں کا سال ہو 


کسی سے کیا کہیں بھلا کہ کیا یہ سال دے گیا





کسی سے کیا کہیں بھلا کہ کیا یہ سال دے گیا
عروج کے تھے منتظر،مگر زوال دے گیا
وہ آفتیں ،قیامتیں تباہیاں ،مصیبتیں
خوشی ہماری چھین کر ہمیں ملال دے گیا
زمین بوس کر گیا بہار رنگ آ شیاں
خزاں کی زد میں تھے جو ایسے خدو خال دے گیا
وہ جن کے آسرے پہ ہم گزار لیں گے زندگی
وہ یاد گار لمحے ہمیں خال خال دے گیا۔
رہی ہیں جوں کی توں یہاں پہ مشکلیں عوم کی
نہ جس کا کوئی ماضی تھا ہمیں وہ حال دے گیا
ہر ایک بات برملا کہی ہے عنبر آ پ نے
تمہیں یہ سال شاعری میں اک کمال دے گیا
عنبر شاہد


Tuesday, 23 December 2014

تیری جانب سے مگر کوئی اشارہ بهی...... تو ہو


کب بجهے گی تشنگی.... یہ آشکارا بهی... تو ہو
ایک پل میں طے کریں گے..عشق کی سب منزلیں
تیری جانب سے مگر کوئی اشارہ بهی...... تو ہو
رات تنہائی میں عنبر آسماں.............. تکتی رہی
میری قسمت کا کہیں اس میں... ستارہ بهی تو ہو
Like                                                                                                              عننبر شاہد

Sunday, 21 December 2014

ختم کر د و یہ آ گ نفرت کی

ختم کر د و یہ آ گ نفرت کی 


ختم  کر د و یہ  آ گ  نفرت  کی

دیکھو کملا رہے ہیں پھول سبھی

توڑ   ڈالو  ا نا  کے  بت  یارو

دیکھو مرجھا گئے ہیں پھول سبھی

خا ہشوں کی غلا می چھوڑ د و ا ب

دیکھو کملا رہے ہیں پھول سبھی

چھوڑو فرقوں کو،ایک ہو جائو

دیکھو مرجھا گئے ہیں پھول سبھی

یوں انگاروں کا کھیل مت کھیلو

دیکھو کملا رہے ہیں پھول سبھی

ایک ہوجائو سب جو ہو مسلم

دیکھو مرجھا گئے ہیں پھول کئی 

عنبر شاہد