بے خودی مجھ میں سمائی تو تری یاد آئی
جی کو تڑپاتی ہوئی مہکی مچلتی سی ہوا
تیرا پیغام جو لائی تو تری یاد آئی
میں نے اک پل کے لیے وصل کی خواہش لے کر
کوئی زنجیر ہلائی تو تری یاد آئی
جب بھی غمگین ہوئی تیرا تصور مچلا
جب خوشی کوئی بھی پائی تو تری یاد آئی
شاخ پہ بیٹھے ہوئے مہکے ہوئے پنچھی نے
پیار کی دھن جو سنائی تو تری یاد آئی

.jpg)


+copy.jpg)

