Friday, 8 August 2014


مہکتی رہے بہار


سرسبز وادیاں جہاں اونچے ہیں کوہسار
لہراتی ندیاں ہیں چمن بھی ہیںُ پر بہار
ہیبت خدا کی ہے یہاں رحمت کے ساتھ ساتھ
بہتی ہے کوہسار سے جھرنوں کی آبشار
روشن ہیں اس کی راتیں حسیں چاند کی طرح
اور دن کی روشنی میں بھی سونے سا ہے نکھار
یہ نعمتیں خدا کی ہیں پائیں جو ہم نے آج
ہم بانی وطن پہ کریں جان بھی نثار
میری دعا ہے رب سے کہ ذہنوں کو دے رہائی
اے کاش کر سکیں کبھی خود پہ بھی انحصار
نظریں بری ہیں اس پہ بچا اسکو اے خدا
قائم ہے رحمتوں کا تری ہر گھڑی حصار
’’ارض وطن میں پھول کھلیں اتفاق کے
عنبرؔ دعا کرو کہ مہکتی رہے بہار‘‘

No comments:

Post a Comment